www.urdu110.com
www.urdu110.com

Here IsTechnology,Urdu Adab, Poetry, and much more...
 
HomeHome  PortalPortal  GalleryGallery  MemberlistMemberlist  UsergroupsUsergroups  RegisterRegister  Log inLog in  
Latest topics
» Payam Poetry On facebook
1/3/2014, 09:20 by Ahmed_Jan

» Hdd Regenerator 2013 Full Gratis
1/3/2014, 09:15 by Ahmed_Jan

» Salam To All Member
6/9/2013, 12:53 by jan_zhob

» TeamViewer Conntrol AnAutor Pc By JAn
14/6/2013, 14:58 by Ahmed_Jan

» Salgiar Mubarak
12/8/2012, 08:00 by Ahmed_Jan

» DUE -E- MAGFARAT
25/6/2012, 10:47 by zeemano

» New Desin Shairy
28/5/2012, 16:15 by shahzad ahmad

» Khod Muj Se Ye Khata Hogia
27/5/2012, 12:21 by muhammad arshad

» Ahmed Faraz 1st Book Tanha Tanha.
15/5/2012, 17:06 by rahmatjan

Who is online?
In total there is 1 user online :: 0 Registered, 0 Hidden and 1 Guest

None

Most users ever online was 15 on 20/10/2013, 18:47
Top posters
Ahmed_Jan
 
jan_zhob
 
Wahid45
 
hakeem_zhob
 
fayzi
 
haleem_gul
 
matinkhan
 
rahmatjan
 
zainlawoon
 
monthazir m monthazirm
 
Keywords
hakeem funny desktop ahmad clock download inpage duaa faraz
Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Social bookmarking
Social bookmarking Digg  Social bookmarking Delicious  Social bookmarking Reddit  Social bookmarking Stumbleupon  Social bookmarking Slashdot  Social bookmarking Yahoo  Social bookmarking Google  Social bookmarking Blinklist  Social bookmarking Blogmarks  Social bookmarking Technorati  

Bookmark and share the address of www.urdu110.com on your social bookmarking website

Share | 
 

 شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں احمد جان

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
jan_zhob
Moderators
Moderators
avatar

Posts : 179
Reputation : 0
Join date : 2011-11-18
Age : 22
Location : Pakistan

PostSubject: شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں احمد جان   18/11/2011, 08:03


شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

موتی ہو کہ شیشہ، جام کہ دُر
جو ٹوٹ گیا، سو ٹوٹ گیا
کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے
جو ٹوٹ گیا ، سو چھوٹ گیا
تم ناحق ٹکڑے چن چن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کامسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
شاید کہ انہی ٹکڑوں میں کہیں
وہ ساغرِ دل ہے جس میں کبھی
صد ناز سے اُترا کرتی تھی
صہبائے غمِ جاناں کی پری
پھر دنیا والوں نے تم سے
یہ ساغر لے کر پھوڑ دیا
جو مے تھی بہادی مٹی میں
مہمان کا شہپر توڑ دیا
یہ رنگیں ریزے ہیں شاید
اُن شوخ بلوریں سپنوں کے
تم مست جوانی میں جن سے
خلوت کو سجایا کرتے تھے
ناداری، دفتر، بھوک اور غم
ان سپنوں سے ٹکراتے رہے
بے رحم تھا چومکھ پتھراؤ
یہ کانچ کے ڈھانچے کیا کرتے
یا شاید ان ذروں میں کہیں
موتی ہے تمہاری عزت کا
وہ جس سے تمہارے عجز پہ بھی
شمشاد قدوں نے رشک کیا
اس مال کی دھن میں پھرتے تھے
تاجر بھی بہت، رہزن بھی کئی
ہے چورنگر، یا مفلس کی
گرجان بچی تو آن گئی
یہ ساغر، شیشے، لعل و گہر
سالم ہوں تو قیمت پاتے ہیں
یوں ٹکڑے ٹکڑے ہوں، تو فقط
چھبتے ہیں، لہو رُلواتے ہیں
تم ناحق شیشے چن چن کر!
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
یادوں کے گریبانوں کے رفو
پر دل کی گزر کب ہوتی ہے
اک بخیہ اُدھیڑا، ایک سیا
یوں عمر بسر کب ہوتی ہے
اس کارگہِ ہستی میں جہاں
یہ ساغر، شیشے ڈھلتے ہیں
ہر شے کا بدل مل سکتا ہے
سب دامن پر ہو سکتے ہیں
جو ہاتھ بڑھے ، یاور ہے یہاں
جو آنکھ اُٹھے، وہ بختاور
یاں دھن دولت کا انت نہیں
ہوں گھات میں ڈاکو لاکھ ، مگر
کب لوٹ چھپٹ سے ہستی کی
دو کانیں خالی ہوتی ہیں
یاں پربت پربت ہیرے ہیں
یاں ساگر ساگر موتی ہیں
کچھ لوگ ہیں جو اس دولت پر
پردے لٹکائے پھرتے ہیں
ہر پربت کو، ہرساگر کو
نیلام چڑھائے پھرتے ہیں
کچھ وہ بھی ہیں لڑ بھِڑ کر
یہ پردے نوچ گراتے ہیں
ہستی کے اُٹھائی گیروں کی
ہر چال اُلجھائے جاتے ہیں
ان دونوں میں رَن پڑتا ہے
نِت بستی بستی نگر نگر
ہر بستے گھر کے سینے میں
ہر چلتی راہ کے ماتھے پر
یہ کالک بھرتے پھرتے ہیں
وہ جوت جگاتے رہتے ہیں
یہ آگ لگاتے پھرتے ہیں
وہ آگ بجھائے رہتے ہیں
سب ساغر، شیشے، لعل و گوہر
اس بازی میں بَد جاتے ہیں
اُٹھو سب خالی ہاتھوں کو
اس رَن سے بلاوے آتے ہیں
کاسٹ
احمد جان
Back to top Go down
http://urdu110.forumur.net
 
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں احمد جان
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
www.urdu110.com :: Poetry :: All Urdu Poets :: Faiz Ahmed Faiz-
Jump to: