www.urdu110.com
www.urdu110.com

Here IsTechnology,Urdu Adab, Poetry, and much more...
 
HomeHome  PortalPortal  GalleryGallery  MemberlistMemberlist  UsergroupsUsergroups  RegisterRegister  Log inLog in  
Latest topics
» Payam Poetry On facebook
1/3/2014, 09:20 by Ahmed_Jan

» Hdd Regenerator 2013 Full Gratis
1/3/2014, 09:15 by Ahmed_Jan

» Salam To All Member
6/9/2013, 12:53 by jan_zhob

» TeamViewer Conntrol AnAutor Pc By JAn
14/6/2013, 14:58 by Ahmed_Jan

» Salgiar Mubarak
12/8/2012, 08:00 by Ahmed_Jan

» DUE -E- MAGFARAT
25/6/2012, 10:47 by zeemano

» New Desin Shairy
28/5/2012, 16:15 by shahzad ahmad

» Khod Muj Se Ye Khata Hogia
27/5/2012, 12:21 by muhammad arshad

» Ahmed Faraz 1st Book Tanha Tanha.
15/5/2012, 17:06 by rahmatjan

Who is online?
In total there is 1 user online :: 0 Registered, 0 Hidden and 1 Guest

None

Most users ever online was 15 on 20/10/2013, 18:47
Top posters
Ahmed_Jan
 
jan_zhob
 
Wahid45
 
hakeem_zhob
 
fayzi
 
haleem_gul
 
matinkhan
 
rahmatjan
 
zainlawoon
 
monthazir m monthazirm
 
Keywords
ahmad hakeem funny faraz clock download duaa inpage desktop
Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Social bookmarking
Social bookmarking Digg  Social bookmarking Delicious  Social bookmarking Reddit  Social bookmarking Stumbleupon  Social bookmarking Slashdot  Social bookmarking Yahoo  Social bookmarking Google  Social bookmarking Blinklist  Social bookmarking Blogmarks  Social bookmarking Technorati  

Bookmark and share the address of www.urdu110.com on your social bookmarking website

Share | 
 

 Qabil Ajmeri

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
Ahmed_Jan
Admin
Admin
avatar

Posts : 276
Reputation : 0
Join date : 2011-10-23
Age : 22
Location : Pakistan

PostSubject: Qabil Ajmeri   19/11/2011, 07:31


اشعار جو انکی تصنیف " عشق انسان کی ضرورت ہے " سے لیے گئےہیں:



راستہ کٹ ہی جائے گا قابل

شوقِ منزل اگر سلامت ہے

آج قابل میکدے میں انقلاب آنے کو ہے

اہل دل اندیشہء سود و زیاں تک آگئے

بصد رشک قابل کی آوارگی کو

غزالانِ دیر و حرم دیکھتے ہیں

قابل دلِ صد چاک ہے سوغات جنوں کی

جی بھر کے اُسے پیار کرو موسمِ گُل ہے

قابل فراقِ دوست میں دل بجھ کےرہ گیا

جینے کے حوصلے بھی فروزاں نہ کرسکے

کتنی شمعیں بجھا کے اے قابل

دل میں اک روشنی اُتاری ہے

زمانہ دیکھ لے گا اور تھوڑی دیر باقی ہے

ہمیں نیند آگئی قابل کہ طوفانوں کو نیند آئی

مرے خلوص کا عالم نہ پوچھیے قابل

شکستِ جام سے آوازِ زندگی آئی

قابل انکی بے نیازی کا کرشمہ دیکھیے

اپنی جانب ہوگیا ہے سارے افسانوں کا رُخ

کوئی احسان کرکے قابل پر

دوستی کی سزا نہ دے جانا

کس توقع پہ اہلِ دل قابل

زندگی سے نباہ کربیٹھے

اضطراب ِ دل سے قابل وہ نگاہِ بے نیاز

بے خبر معلوم ہوتی ہے مگر ہوتی نہیں

قابل کشا کشِ سحرو شام کی قسم

مرنے میں ہے نجات مگر جی رہےہیں ہم

ہم محبت میں مِٹ گئے قابل

اب کوئی غمگسار سا کیوں ہے

صاحبِ درد ہوکے ہم قابل

کوچہء چارہ گر میں رہتے ہیں

یہ طرز فکر یہ رنگِ سخن کہاںقابل

ترے کلام سے پہلےترے کلام کےبعد



قابلِ درد آشنا کے لیے

اک مسیحا رہی ہے تیری یاد

اُس کے طرزِ کلام سے قابل

کتنے وحشی ادیب ہوتے ہیں

وہ اپنی جفا پر پشیماں ہے قابل

محبت کو اب آسرا کون دےگا

پھول تو پھول ہیںاس دور ہوس میں قابل

لوگ کانٹوںکو بھی چُن لیتے ہیں ویرانے سے

قابل مری نگاہ کے چرچےہیں دور دور

آتا ہے بت کدے میںمسلماں کبھی کبھی

روش روش پر میں زخم ِ دل کا لہو چھڑکنا بھی جانتا ہوں

مرے چمن کا فروغ قابل بہار پر منحصر نہیں ہے

ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو بگڑ کے قابل سے جارہےہو

مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کروگے

ہوس کےدور میں قابل سے عظمتِ فن ہے

غزل سرا بھی رہا ذکرِ یار بھی نہ کیا

اجل کی گود میں قابل ہوئی ہے عمر تمام

عجب نہیں کہ مری موت زندگی ہوجائے

فراقِ دوست سلامت کہ اہل دل قابل

نفس نفس کو زمانہ بنائے پھرتے ہیں

خوشبوئے انتظار سے مہکی ہوئی رات

قابل نہ جانے کس کو بُلاتی ہےچاندنی

ہمیں پر منحصر ہے رونقِ بزم جہاں قابل

کوئی نغمہ ہو اپنا ہی رہینِ ساز ہوتا ہے

منزل سب میں رختِ سفر ہے قابل

درد کی خیر مناتا ہوں سحر ہونے تک

کون ہوتا ہے جفاوں پہ پشیماں قابل

کوئی بیداد بعنوانِ وفا باقی ہے

خنداں نہیں ، مہک نہیں ، رعنائیاں نہیں

قابل یہ پھول ہیں کہ جنازے بہار کے

قابل وہ میرے ساتھ رہے ہیں تمام عمر

مجھ کو مری نگاہ سےپنہاں کیے ہوئے

ہم سفر مل جائینگے درد آشنا مل جائینگے

قابل اپنی داستانِ غم بیا ں کرتے چلو

کچھ نئی بات تو نہیں قابل

ہجرمیں بے کلی ہی رہتی ہے

یہ اور بات کہ تقدیر سوگئی قابل

وگرنہ دیدہ ء بیدار ہم بھی رکھتےہیں

رضائے دوست قابل میرا معیارِ محبت ہے

انہیں بھی بھول سکتا تھا اگر اُن کی خوشی ہوتی

اک جھومتے بادل نے چپکےسے کہا قابل

ہنگام گل آیا ہے ساقی نےبلا یا ہے

رُخصتِ دوست پہ قابل دلِ مایوس کو دیکھ

اک سفینہ ہے کہ ساحل سے جدا ہوتا ہے

گذاری نزع کے عالم میں تونے عمر اے قابل

ترے شعروں میں لیکن زندگانی رقص کرتی ہے

دل میں مچل رہی ہے مسیحا کی آرزو

قابل نشاطِ درد نہیں معتبر ابھی

تجھے کیوں ہو غمِ انجام قابل

خرابِ عشرتِ آغاز ہوں میں

....فقط:
جان خروٹی


Back to top Go down
http://urdu110.forumur.net
 
Qabil Ajmeri
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
www.urdu110.com :: Poetry :: All Urdu Poets :: Qabil Ajmeeri-
Jump to: